بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر کے دوران سونے سے وضو

سوال

بس وغیرہ میں سفر کے دوران انسان کو نیند کے جھٹکے آتے ہیں ، تھوڑی سی آنکھ لگ جاتی ہے، لیکن یقینی طور پر پتا ہوتا ہے کہ کچھ خارج نہیں ہوا تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

جس نیند کی وجہ سے انسان  اپنے اعضاء پر قدرت برقرار نہ رکھ سکے اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص  پہلو پر یا  ایک کولہے پر یا چہرے کے بل یا چت لیٹ کرسوجائے یا کسی ایسی چیز سے ٹیک لگا کر سوجائے کہ اگر اس چیز کو ہٹایا جائے تو وہ گرجائے تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس میں وقت کی کوئی مقدار نہیں اگر تھوڑی دیر بھی آنکھ لگ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، البتہ صرف اونگھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا؛ لہذا اگر سفر کے دوران سیٹ سے ٹیک لگی ہوئی تھی اور نیند اتنی گہری تھی کہ ٹیک ہٹادی جاتی تو گر پڑتے  تو وضو ٹوٹ گیا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 141):
’’(و) ينقضه حكماً (نوم يزيل مسكته) أي قوته الماسكة بحيث تزول مقعدته من الأرض، وهو النوم على أحد جنبيه أو وركيه أو قفاه أو وجهه (وإلا) يزل مسكته (لا) يزل مسكته (لا) ينقض وإن تعمده في الصلاة أو غيرها على المختار كالنوم قاعداً ولو مستنداً إلى ما لو أزيل لسقط على المذهب‘‘.  
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200179
تاریخ31-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں