رہائش کے لیے خریدا گیا پلاٹ ملکیت میں ہوتے ہوئے زکات لینے کا حکم
سوال
ایک شخص کے پاس ایک خالی پلاٹ ہے جوکہ اس نے رہائش کے لیے رکھا ہواہے جب کہ اس کے پاس وسائل نہیں کہ وہ اس کی تعمیر کر سکے اور وہ خود کرایہ کے گھر میں رہتا ہے، کیا ایسے شخص کو زکات دے سکتے ہیں کہ وہ اس پلاٹ میں گھر تعمیر کر سکے ؟
جواب
مذکورہ شخص نے اگر وہ پلاٹ رہائش کی نیت سے خریدا ہے تو اس پلاٹ کی وجہ سے وہ صاحبِ نصاب نہیں کہلائے گا، اگر اس کے پاس اس پلاٹ کے علاوہ نصاب کے بقدر سونا، چاندی، نقدی، سامانِ تجارت یا ضرورت سے زائد اتنا سامان نہ ہو جس کی مالیت (تنہا یا مذکورہ اموال کے ساتھ مل کر) ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچے تو اسے زکات دینا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

