بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی اجازت کے بغیر خالہ کے گھر رکنا

سوال

بیوی کو اس کے ماں باپ کے گھر بھیجا ہے؛ کیوں کہ اس کے بھائی کی شادی ہے ایک مہینے بعد، اب وہ اپنی خالہ کے گھر کسی فنکشن میں رکنے کا کہہ رہی ہے اور شوہر اجازت نہیں دے رہا، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا اپنی خالہ کے گھر رکنا ناجائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 145):
"فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها  أو لزيارة أبويها كل جمعة مرةً أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلةً أو غاسلةً لا فيما عدا ذلك.

(قوله: فيما عدا ذلك) عبارة الفتح: وأما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لايأذن لها ولاتخرج..." فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200156
تاریخ31-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں