بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی زندہ کی طرف سے عمرہ ادا کرنا

سوال

کیا زندہ شخص کی طرف سے عمرہ کیا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص نیک عمل (نماز، تلاوت،  نوافل، خیرات یاعمرہ) اس نیت کے ساتھ کرے کہ اس کا ثواب زندہ یا مردہ یا زند اور مردہ دونوں کو ملے تو اس طرح کرنا جائز ہے، اسے ایصالِ ثواب کہا جاتاہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات میں ترقی ہوتی ہے، درجات بلند ہوتے ہیں اور عذابِ قبر میں تخفیف کی امید ہے؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اس نیت سے نفلی عمرہ کرنا کہ اس کا ثواب زندہ  شخص کو ملے یا زندہ اور مردہ دونوں کو ملے، جائز ہے۔

در مختار میں ہے:

"من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز". (ج2، ص: 243) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200153
تاریخ30-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں