بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیر خوار بچہ کی قے لگے کپڑوں میں نماز پڑھنا

سوال

اگر شیر خوار بچہ منہ بھر کر دودھ  الٹی کرے تو کیا نجاستِ غلیظہ ہوگا یا خفیفہ?  اور اگر غلیظہ ہے تو  اس ماں کے لیے کیا حکم ہوگا جس نے مسلسل 5 مہینوں تک دھوئے بغیر نماز پڑھی؟ اور اگر خفیفہ ہو تو پھر بھی تفصیل بتائیں!

جواب

شیرخوار بچہ دودھ پیتے ہوئے یا دودھ پینے کے بعد قے کردے ،اگر قے منہ بھر کر ہو تو اس کا حکم بڑے آدمی کی قے کی مانند ہوگا یعنی نجاستِ مغلظہ ہو گی، اگر جسم یا کپڑےپر لگ جائے اور مقدار میں ایک درہم یا ایک درہم سے زائدہو تو اس کا پاک کرنا ضروری ہے۔ 

اگر کسی خاتون کو مسئلہ کا علم نہ ہو اور انہوں نے ایسے کپڑوں میں  نماز پڑھ لی ہو (جب کہ قے ایک درہم کی مقدار سے زیادہ ہو) تو ایسے کپروں میں نماز نہیں ہوئی، نمازوں کا حساب کر کے ان کی قضا  کر لی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 138):
"وهو نجس مغلظ، ولو من صبي ساعة ارتضاعه، هو الصحيح لمخالطة النجاسة، ذكره الحلبي".

البتہ اگر بچہ دودھ پینے کے دوران (حلق سے نیچے دودھ اتارے بغیر) منہ سے ہی دودھ نکال دے تو وہ ناپاک نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200140
تاریخ30-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں