بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن اور بھائی کا اکیلے ایک کمرے میں بیٹھنے کا حکم

سوال

کیا بہن بھائی اکیلے ایک کمرے میں بیٹھ سکتے ہیں، جب کہ وہاں اور کوئی بھی نہ ہو کیا،  شریعت کے مطابق یہ ٹھیک ہے؟

جواب

بہن اور بھائی چوں کہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے محرم ہیں؛ اس لیے عام حالات میں بہن اور بھائی کے ایک کمرے میں اکیلے بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ قرائن کی بنیاد پر اگر کسی جگہ فتنہ کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں دونوں کا تنہائی میں اکیلے بیٹھنا جائز نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200121
تاریخ29-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں