بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جہیز میں ملی واشنگ مشین کے استعمال سے روکنا

سوال

 میرے والدین نے مجھے جہیز  میں ایک آٹومیٹک واشنگ مشین دی؛ کیوں کہ بوجہ جسمانی کم زوری میں اس طرح کے سخت کام کرنے سے قاصر ہوں. پر میرے شوہر نے میری مشین استعمال کرنے سے مجھے منع کر دیا ہے اور کہا ہے کہ گھر میں موجود دیسی مشین استعمال کرو، وجہ یہ کہ وہ اپنے بھائی سے عہد کر چکے ہیں کہ میری بیوی آپ لوگوں کی مشین استعمال کرے گی، اور یہ کہ ایک ہی پورشن میں اتنی ساری واشنگ مشینیں پڑی اچھی نہیں لگتی ہیں اور یہ بھی کہ آٹومیٹک مشین کو ایک ہی جگہ مستقل طور پر رکھنا پڑتا ہے؛ لہذا میں فکس نہیں کروا سکتا اور اپنے بھائی کے سامنے ان کی  بات نہ مان کر شرمندہ نہیں ہونا چاہتا. اور یہ بھی کہ میں تمہارا شوہر ہوں اور تم پر میرا ہر فیصلہ ماننا فرض ہے.

سوال یہ ہے کہ کیا میرے شوہر کا یہ سب کہنا درست ہے؟ اور مجھے اپنی ضرورتوں کے  لیے اپنے شوہر سے کچھ کہنا نہیں بنتا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جہیز میں ملی واشنگ مشین سائلہ استعمال کر سکتی ہے، شوہر   کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کو راحت فراہم کرے، پس اگر اس نے اپنے بھائی کو کوئی زبان دی ہے تو  انہیں ضرورت سمجھا کر اس سے رجوع کر لینا چاہیے۔

شوہر کی وہ بات جو شریعت سے متصادم نہ ہو، اس کی پاس داری کرنا بیوی پر لازم ہے، تاہم شوہر پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مقدور بھر سہولت و راحت فراہم کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200120
تاریخ29-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں