حرام تجارت میں ایک لاکھ لگا کر ایک لاکھ صدقہ کردیے
سوال
ہم نے ایک لاکھ روپے کسی حرام تجارت میں لگایا، پھر اس سے ایک لاکھ روپے کمایا اور اسے صدقہ کردیا تو کیا وہ تجارت درست ہے اور اس کی کمائی درست ہے؟
جواب
حرام تجارت میں جب تک حرمت کی وجہ ختم نہ کی جائے، اس کی آمدنی حلال نہیں ہوگی؛ لہذا اپنی تجارت کی تفصیل کسی عالمِ دین کے سامنے رکھ کر اس سے راہ نمائی لیں۔ نیز اس سے جو نفع ہوا، اس سب کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا واجب ہے، اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144106200117
تاریخ29-01-2020

