بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عصر سے مغرب کے درمیان سونے کا حکم

سوال

عصر  سے مغرب کے بیچ میں سونا کیسا ہے؟

جواب

عصر سے مغرب کا وقت بڑا با برکت ہے؛ اس لیے اس وقت کو  ذکر و تلاوت وغیرہ میں صرف کرنا چاہیے،  بلاعذر عصر سے مغرب کے درمیان سونے کا معمول بنالینا اچھا نہیں ہے؛ کیوں کہ ایک تو عصر سے مغرب کے درمیان وقت کم ہونے کی وجہ سے مغرب کی نماز یا جماعت نکلنے کا اندیشہ رہے گا، دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض اطباء بھی اس وقت سونے کو صحت کے  لیے نقصان دہ بتاتے ہیں، البتہ کبھی کبھار کسی عذر (بیماری، تھکن یا بے خوابی وغیرہ) کی وجہ سے اگر عصر اور مغرب کے درمیان سونے کا تقاضہ  ہو تو شرعاً اس وقت سونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (1/ 470):
"ويكره النوم بعد العصر لحديث: «من نام بعد العصر، فاختل عقله، فلا يلومن إلا نفسه»". (3)

و في حاشيته:

(3) رواه أبو يعلى الموصلي عن عائشة، لكنه حديث ضعيف".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200074
تاریخ28-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں