بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

'مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں' سے طلاق کا حکم

سوال

ایک آدمی چار ماہ کے لیے تبلیغی جماعت میں جاتا ہے، بیوی کہتی ہے کہ چالیس دن کے لیے چلے جاؤ ، مرد چار ماہ پر اصرار کرتا ہے، بیوی جو کہعمر رسیدہ پوتے پوتیوں والی ہے وہ کہتی ہے کہ چلے جاؤ مجھے کوئی پرواہ نہیں، اس کے جواب میں وہ مرد جو کہ بوڑھا اور بال بچوں پوتے پوتیوں والا ہے ہنستے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے بھی تیری کوئی ضرورت نہیں،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے درمیان نکاح ختم ہو گیا ہے، کیا لوگوں کا کہنا درست ہے؟ کیا واقعتاً مرد کا بیوی کو ’’ مجھے تیری ضرورت نہیں‘‘ کہنا نکاح کو ختم کردیتاہے؟ کیا صورت مسئولہ میں نئے نکاح کی ضرورت پڑے گی؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی؛ کیوں کہ طلاق کا کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 230):
"وركنه لفظ مخصوص".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200066
تاریخ28-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں