بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نقد رقم کی زکاۃ

سوال

نقد رقم ہو تو  زکاۃ کس طرح نکالے؟  برائے مہربانی جواب دے!

جواب

اگر یہ رقم زکاۃ کے نصاب  یعنی آج کل ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر ہو تو سال پورا ہونے پر اس کا ڈھائی فیصد  بطورِ زکاۃ ادا کرنا ہوگا۔ 

ملاحظہ ہوالاختیارلتعلیل المختارمیں ہے:

"والتقويم بعرف المالية والنقدان في ذلك سواء فيخير. وعن أبي حنيفة : يقومها بما هو أنفع للفقراء".

وهو أن يبلغ نصابا نظرا لهم .(1/120):

فتاوى عالمگیری میں ہے:

"ولو ضمّ أحد النصابين إلى الأخرى حتى يؤدي كله من الذهب أو من الفضة لا بأس به، لكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء قدرًا ورواجًا، وإلا فيؤدي من كل واحد ربع عشره، كذا في محيط السرخسي". (5/67،طبع بیروت) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200017
تاریخ27-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں