بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیشاب سوکھ جائے تو بستر پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنا

سوال

اگر بستر پر بچے نے پیشاب کیا ہو اور وہ سوکھ چکا ہو، تو کیا اس پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب

 جائز ہے ۔
ہندیہ میں  ہے :

"ولو كانت النجاسة رطبةً فألقى عليها ثوباً وصلى إن كان ثوباً يمكن أن يجعل من عرضه ثوباً كالنهالي يجوز عند محمد وإن كان لايمكن لايجوز، و إن كانت يابسةً جازت إذا كان يصلح ساتراً، كذا في الخلاصة". (الفتاوی الهندیة، ۱/۶۲)

فتاویٰ  شامی میں ہے:

"وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقاً يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لايجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظاً بحيث لايكون كذلك جازت". (فتاوی شامی، ۱/۶۲۶،سعيد) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200012
تاریخ27-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں