بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر نہ جانے کی قسم کھانا

سوال

زید غصے میں تھا اور قسم کھائی کہ اللہ پاک کی قسم میں مرجاؤں گا یا پھر اس گھر میں نہیں آؤں گا، عند الشرع کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زید نے جس گھر میں موت  تک نہ جانے کی قسم کھائی ہے اگر اس گھر میں زید چلا جائے گا تو وہ حانث ہوگا اور اس کے ذمہ قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔

اگر وہ گھر  ایسا ہے جہاں نہ جانے کی وجہ سے قطع رحمی لازم آتی ہو تو  حکم یہ ہے کہ اس گھر میں جاکر صلہ رحمی کے تقاضے پر عمل کرے، اور کفارہ ادا کردے۔ جائز یا  نیک کام پر اٹھائی گئی قسم کو پورا کرنا چاہیے،  گناہ کا کام کرنے  یا فرض یا واجب کو ترک کرنے پر کھائی گئی قسم پر عمل جائز نہیں ہے، اور نامناسب کام پر قسم اٹھائی ہو تو  اسے بھی توڑدینا چاہیے۔

قسم کے کفارے کی مقدار جاننے کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

قسم کا کفارہ

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105201133
تاریخ26-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں