بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سر کٹی تصویر پر مشتمل کپڑے پہن کر نماز پڑھنا

سوال

اگر کسی کپڑے پر کسی پرندے کی تصویر ہو ، اس کا سائز بھی چھوٹا ہو اور اس کا سر بھی نہ بنا ہوا ہو تو کیا اس کپڑے میں نماز پڑھنا اور ان کپڑوں کا پہننا جائز ہے؟

جواب

اگر کسی کپڑے پر ایسی تصویر بنائی گئی ہو جس میں صرف جسم ہو اور سر کاٹ دیا گیا ہو یا بنایا ہی نہ گیا ہو تو ایسے کپڑوں کو پہننا اور اس میں نماز پڑھنا جائز ہو گا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (4/ 150):
"(قوله: وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو بحذائه صورة ) ...... ( قوله: إلا أن تكون صغيرةً )...... ( قوله: أو مقطوع الرأس ) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق لها أثر أو يطليه بمغرة ونحوها أو بنحته أو بغسله وإنما لم يكره؛ لأنها لاتعبد بدون الرأس عادةً". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144105201127
تاریخ26-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں