شادی شدہ بیٹی کا اپنے والد کو زکات دینا
سوال
کیا شادی شدہ بیٹی اپنے باپ کو قرض اتارنے کے لیے یا دوسرے اخراجات پورا کرنے کے لیے زکات دے سکتی ہے؟
جواب
زکات، فطرانہ اور عشر اپنے اصول ( والدین، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ اوپر تک) اور فروع ( بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ نیچے تک) کو نہیں دے سکتے ہیں؛ اس لیے بصورتِ مسئولہ بیٹی کا اپنے والد کو زکات دینا خواہ قرض اتارنے کے لیے ہو یا اخراجات کے لیے شرعاً جائز نہیں، اگر وسعت ہو تو زکات کے علاوہ مال سے تعاون کرنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

