بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے وقف شدہ پلاٹ مدرسہ والوں کو دینے کا حکم

سوال

ایک مسجد کا پلاٹ جو کافی عرصہ پہلے کسی خدا کے بندے نے وقف کیا تھا، اس کے بعد کئی لوگ مسجد کی کمیٹی میں آئے اور گئے، اب موجودہ کمیٹی نے اس پلاٹ کو ایک مدرسے کو دے دیا ہے، یاد  رہے کہ اس کمیٹی میں جس نے پلاٹ وقف کیا تھا، اس کے خاندان کا کوئی بھی بندہ شامل نہیں۔ اب کیا ان کمیٹی والوں کو یہ حق ہے کہ وہ پلاٹ مدرسے کے لیے دیں یا مدرسے والے وہ پلاٹ مدرسے کے لیے لیں ?

جواب

جو پلاٹ واقف نے مسجد کے لیے وقف کیا تھا، اس پلاٹ کو مدرسہ کو دینا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105201124
تاریخ26-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں