بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سود کی رقم سے زکاۃ کی ادائیگی

سوال

میں نے آج سے 20 سال پہلے ایک بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا جس کا نام تھا پرافٹ اینڈ لاس سیونگ اکاؤنٹ،   یہ اکاؤنٹ ضیاء  الحق کے زمانے میں بینکوں سے کھلوایا گیاتھا۔  میں یہی سمجھا کی یہ سود سے پاک اکاؤنٹ ہے،  اس وقت شاید یہ سود سے پاک تھا۔ لیکن مجھے دو تین ماہ پہلے معلوم ہوا ہے کہ اس اکاؤنٹ میں سود بھی شامل ہوتا ہے،  میں اس اکاؤنٹ میں موجود رقم پر ہر سال زکاۃ دیتا رہا ہوں، زکاۃ والی رقم میں سود کی رقم بھی شامل ہوتی تھی۔ 

جواب

حرام رقم پرنہ  زکاۃ واجب ہوتی ہے اورنہ زکاۃ کی ادائیگی میں قابلِ قبول  ہوتی ہے، لہذا حرام رقم پر جو  زکاۃ ادا کی وہ  زکاۃ نہیں کہلائے گی، اسی طرح اگر (پاکیزہ مال پر) واجب ہونے والی زکاۃ  حرام رقم سے  ادا کی ہے تو اتنی زکاۃ دوبارہ ادا کریں ۔

1- "لو کان الخبث نصابًا لایلزمه الزکاة". (المتانة ۳۲۱)
۲- "في القنیة: لو کان الخبیث نصابًا لایلزمه الزکاة؛ لأن الکل واجب التصدق علیه". (شامی۲/۲۹۱) 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105201116
تاریخ26-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں