بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بے نمازی سے چندہ لے کر لے کر امام کی تنخواہ دی جا سکتی ہے؟

سوال

ہماری  مسجد کے امام صاحب کی تنخواہ محلہ کے ہر ساتھی سے جمع کرکے دیتے ہیں، لیکن ان ساتھیوں میں کچھ بے نمازی بھی ہوتے ہیں ان بےنمازیوں  کا  پیسہ بھی  شامل کرکے امام صاحب کو تنخواہ دے سکتے  ہیں یا نہیں؟   امام صاحب کے لیے ان بے نمازیوں کے پیسہ لینا جائز ہے یا نہیں، لیکن وہ بے نمازی لوگ مسجد کے ممبر ہیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ افراد حلال مال سے اور  دلی رضامندی سے چندہ دیتے ہوں تو ان کا چندہ لے کر امام کی تنخواہ  ادا کی جا سکتی ہے، ایسے افراد کو انفاق کا ثواب  مل جائے گا،  تاہم نماز نہ ادا کرنا سخت گناہ ہے،  جس پر انہیں فوری توبہ کرنا چاہیے اور باقاعدگی سے نمازوں کا اہتمام کرنا چاہیے اور اب تک جتنی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105201073
تاریخ25-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں