بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خریدار نے جعلی نوٹ دیا، اسے آگے کسی اورکو دینا

سوال

میں ایک دوکان پر کام کرتا ہوں، وہاں بعض اوقات لوگ جعلی نوٹ دے جاتے ہیں. کیا میں ان نوٹوں کو آگے دے سکتا ہوں کسی اور گاہک کو?

جواب

کسی کو جعلی نوٹ دینا  جعل سازی، دھوکا اور فراڈ  ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے،  اگر آپ کو کسی نے جعلی نوٹ دے کر دھوکا دیا ہے تو اس بنا پر شرعاً  آپ کے لیے کسی اور کو دھوکا دینا قطعاً جائز نہیں ہے۔ 

"وعن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب))." ( مسند أحمد )

ترجمہ: مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔   نیز ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو ہمیں (یعنی مسلمانوں کو) دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے"۔فقط  واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105201068
تاریخ25-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں