بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام پیسوں سے خریدی گئی دکان میں کاروبار کرنے کا حکم

سوال

کسی نے حرام پیسے سےدکان کے لیے زمین خریدی ہے اور اس میں جو مال لگایا ہے وہ حلال پیسے کا ہے تو اس دکان سے تجارت کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں حلال مال کے فروخت ہونے سے حاصل ہونے والا نفع حلال ہوگا،  تاہم دوکان چوں کہ حرام کی ہے اس لیے اس کا استعمال ناجائز ہوگا، حرام مال بلاعوض حاصل ہوا ہو تو اصل مالک تک اتنی رقم پہنچائی جائے، مالک نہ ہو تو اس کے ورثہ کو اتنی رقم حوالہ کی جائے، اگر پوری کوشش کے باوجود مالک اور ورثہ نہ مل سکیں تو حرام رقم کے بقدر رقم، ثواب کی نیت کے بغیر مستحقِ زکات کو دے دے، تو دکان کا استعمال جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105201028
تاریخ24-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں