بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلم کمرشل بینک کی شرعی حیثیت

سوال

 مسلم کمرشل بینک میں اسلامی بینکاری کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مروجہ اسلامی اور سودی بینکوں میں کوئی فرق نہیں ہے، جو حکم سودی بینکوں کا ہے، وہی حکم مروجہ اسلامی بینکوں کا بھی ہے؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بینک یا کسی بھی روایتی بینک میں اسلامی بینکاری کے عنوان سے بینکاری کا جو کام ہورہا ہے، شرعاً وہ درست اور جائز نہیں ہے۔

وفي الدر المختار للحصکفي:

"«وفي الأشباه: كل قرض جر نفعا حرام ... الخ»".

وفي رد المحتار لابن عابدين:

"«(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر ... الخ»". (کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة، فصل في القرض، مطلب کل قرض جرّ نفعًا حرام، ج: 5، ص: 166، ط: سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105201002
تاریخ23-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں