بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹے سات بیٹیاں دو بیویاں تقسیمِ وراثت

سوال

دو بھائی  ہیں اور سات بہنیں ہیں اور دو مائیں ہیں ان کو کتنا حصہ ملےگا؟

جواب

مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد اگر شرعی ورثاء صرف بیان کردہ ہی ہیں تو  باقی کل ترکہ کو /176 حصوں میں تقسیم کرکے، ہر بیوہ کو 11 حصے ، مرحوم کی  ہر ایک بیٹی کو  14 حصے اور ہر بیٹے کو /28 حصے  ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200967
تاریخ22-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں