دو بیٹے سات بیٹیاں دو بیویاں تقسیمِ وراثت
سوال
دو بھائی ہیں اور سات بہنیں ہیں اور دو مائیں ہیں ان کو کتنا حصہ ملےگا؟
جواب
مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد اگر شرعی ورثاء صرف بیان کردہ ہی ہیں تو باقی کل ترکہ کو /176 حصوں میں تقسیم کرکے، ہر بیوہ کو 11 حصے ، مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 14 حصے اور ہر بیٹے کو /28 حصے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

