بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قصاب کتنے جانور ذبح کر سکتا ہے؟

سوال

قصاب اپنی زندگی میں کتنے جانور قربان کر سکتا ہے؟ اسلام میں اس کی کوئی لمٹ ہے؟

جواب

سائل کی مراد اگر اپنی جانب سے قربانی کی تعداد کےبارے میں دریافت کرنا ہے، تو شریعت مطہرہ نے قصاب یا غیر قصاب کے لئے کوئی تعداد متعین نہیں فرمائی ہے، البتہ مال دار شخص پر عید الاضحی کے دس، گیارہ ،بارہ ذی الحجہ کے تینوں دنوں میں سے کسی بھی دن ایک قربانی کو واجب قرار دیا ہے، واجب قربانی کے علاوہ حسب استطاعت جتنی قربانی کرنا چاہیں کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، البتہ اگر سوال کا مقصد قصابی کے پیشہ سے وابستہ افراد کے جانور ذبح کرنے کی تعداد دریافت کرنا ہے، تو شریعت مطہرہ نے ایسی کوئی تعداد متعین نہیں فرمائی ہے کہ اس تعداد کے مکمل ہونے کے بعد قصاب کے لئے مزید جانور ذبح کرنے کی اجازت نہ ہو، پس جب تک ہمت و طاقت ہو قصاب ذبح کر سکتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ضرور لے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200963
تاریخ22-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں