بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کے سودے پر سودا کرنا

سوال

مالکِ مکان اور فریقِ اول کے درمیان پلاٹ کا سودا چل رہا تھا، ایجاب و قبول ہوگیا، بیعانہ بھی طے ہوگیا، لیکن ابھی دیا نہیں تھا، آدھے گھنٹے کے بعد مالک مکان یہ کہتا ہے کہ میں آپ کا بیعانہ قبول نہیں کرسکتا؛ کیوں کہ میرے گھر پہنچنے پر میری والدہ نے بتایا کہ یہاں دوسرا فریق آیا ہے، جو پہلے فریق سے زیادہ رقم دے رہا ہے، اور پلاٹ خریدنے کو تیار ہے،  بعد ازاں تمام معاملات ہونے کے بعد فریقِ اول بھی فریقِ دوم کے برابر قیمت دینے پر تیار ہے، ایسی صورت میں مالک مکان کو یہ پلاٹ کس فریق کو دینا چاہیے؟ اور جو معاملہ گزشتہ ہوا ہے اس کی وجہ سے گناہ گار تو نہیں ہوگا؟

جواب

مذکورہ صورت میں جس شخص نے مالک سے پہلے ایجاب وقبول کرکے سودا طے کیا ہے یہ شخص مذکورہ پلاٹ کا زیادہ استحقاق رکھتاہے،  نیز جب ایک شخص ایجاب وقبول کرچکا ہو تو درمیان میں کسی اور شخص کا (پہلے سودے کا علم ہوتے ہوئے) شامل ہوکر زیادہ قیمت لگانا اورپہلے شخص کے سودے کو ختم کرنے کی کوشش کرنایا فروخت کرنے والے کا ایجاب و قبول کے باوجود زیادہ قیمت ملنے کی بنا پر  پہلے خریدار کو بتائے بغیر اور اس سے بیع ختم کیے بغیر کسی دوسرے شخص کے ساتھ ایجاب و قبول کرلیناشرعی طور پر ناپسندیدہ امر ہے، جیساکہ حدیث شریف میں ہے:

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے  ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے‘‘۔

یعنی کسی سے خرید وفروخت کا معاملہ ہو رہا ہو تو اس میں مداخلت نہ کرے اور چیز کے زیادہ دام نہ لگائے،  یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ بیچنے والا اور خریدار دونوں کسی ایک قیمت پر راضی ہو گئے ہوں؛ لہذا اب کسی اور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس چیز کو لینے کا ارادہ کرے اور زیادہ دام لگا کر ان کا معاملہ خراب کرے ایسا کرنا مکروہ ہے،  اگرچہ بیع صحیح ہو جائے گی۔(مشکاۃ  مع مظاہر حق)

بہرحال مذکورہ صورت میں اب تک پلاٹ نہ دیا ہو تو پہلے فریق کو دینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200960
تاریخ22-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں