بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناجائز بچوں کو پالنا

سوال

 آج کل اکثر بے اولاد حضرات دوسروں کی ناجائز اولادیں کسی ہسپتال یا رفاہی ادارے سے حاصل کرکے ان کی پرورش کرتے ہیں، کیا اسلام میں اس کی گنجائش موجود ہے؟

دوسری بات یہ کہ ایسے ناجائز بچے کے والدین کے بارے میں اگر معلوم ہو کہ ان کے غلط فعل کی وجہ سے یہ بچہ ہوا ہے تو  ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟  ان کا راز افشا کردینا چاہیے، ان کو قتل کردینا چاہیے، یا راز کو راز ہی رہنے دینا چاہیے؟

جواب

اگر کوئی بچہ ناجائز عمل کی وجہ سے پیدا ہوا ہو تو اس میں اس بچے کا کوئی قصور نہیں ہوتا، زنا کرنے والا اور زنا کرنے والی گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں، اس  لیے اگر کوئی شخص ناجائز عمل کے  نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو پالتا ہے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، لیکن اس عنوان سے مستقل شعبہ یا ادارہ قائم کرنا شرعاً درست نہیں ہے، تا کہ لوگوں کو جسارت نہ ہو۔

شدید ضرورت یا واقعی مصلحت کے بغیر  افشا  نہیں کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200927
تاریخ21-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں