بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں

سوال

کیا ایزی پیسہ اکاؤٹ کھلوانا اور اس سے لین دین کرناجائز ہے  یا نہیں؟  1000 روپے اکاؤنٹ میں رکھنے کی صورت میں کسٹمر کو مفت منٹ اور ایم بی دیتے ہیں۔  اب اگر کوئی صرف اپنی ضروت کے لیے، مثلاً: بل جمع کرنے یا ایزی لوڈ کےلیے استعمال کرتا ہے اور سود کی نیت نہیں ہے تو  اس کو استعمال کیا جاسکتاہے؟

جواب

مروجہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر ملنے والے منافع درحقیقت قرض پر مشروط نفع کے قبیل سے ہونے کی وجہ سے سود کے زمرے میں داخل ہیں، لہذا مذکورہ اکاؤنٹ سے منافع حاصل کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت ہے، اگر کسی نے کھلوالیا ہو تو مسئلہ معلوم ہوجانے کے بعد ایسا اکاؤنٹ بند کروادے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200925
تاریخ21-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں