بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کے لیے تعلیمی مقالہ لکھ کر اجرت لینا

سوال

 کسی شخص کے لیے تعلیمی مقالہ لکھنا اور اس پر اجرت لیناکیساہے؟

جواب

تعلیمی خدمات فراہم کرنے پر اجرت لینا فی نفسہ جائز ہے، البتہ  کسی اور سے مقالہ لکھوا کر اپنے نام سے جمع کروانا اور اس مقالہ  کی بنیاد پر ڈگری حاصل کرنا سرقہ علمی کے ساتھ ساتھ دھوکا دہی کے زمرے میں داخل ہے، جس سے اجتناب کرنا لازم ہے اور ایسے افراد کے لیے جانتے بوجھتے  مکمل مقالہ تیار کرکے دینے اور اس پر اجرت لینے  کی  شرعاً اجازت نہ ہوگی۔ جزوی معاونت،حوالہ جات کی فراہمی یا کمپوزنگ و سیٹنگ میں تعاون اس میں داخل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200910
تاریخ21-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں