بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کام ہوجانے کے بعد نذر پوری کرنا ضروری ہے؟

سوال

ایک عورت نے کہا کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو امامِ مسجد کو عمرہ کرادوں گی۔ اور مسجد میں دس ہزار روپیہ دوں گی۔ چوں کہ مشروط کام پوراہوگیا ہے،  اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اب اس عمرہ والی رقم کے ساتھ مسجد میں دینے والی رقم ملا کر خود اس سے عمرہ کرسکتی ہے؟  کیا وہ یہ تمام رقم غریب کے قبضے  کے بعد مدرسہ کی عمارت میں لگاسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس مسجد کے امام صاحب کو عمرہ کرانے اور  جس مسجد میں دس ہزار دینے کی تعیین اپنی نذر میں  کی تھی، اسی مصرف میں اب رقم خرچ کرنا ضروری ہوگا، خود عمرہ  کرنے سے نذر پوری نہیں ہوگی، خود عمرہ کرنے یا تعمیر میں صرف کرنے کے لیے حیلہ اختیار نہ کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200869
تاریخ20-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں