بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ پر انعام نکلنے کی صورت کا شرعی حکم

سوال

 پرائز بانڈ کے اُٹھنے سے جو پیسے ملتے ہیں یہ جائز ہوتے ہیں یا نہیں؟ کیوں کہ بانڈ پر لکھا ہوتا ہے  کہ یہ پیسے علاوہ سود  دیے جاتے ہیں۔

جواب

پرائز بانڈ چوں کہ سود اور جوئے پر مشتمل ہوتا ہے؛ اس وجہ سے اس کی خرید و فروخت جائز نہیں، اس سے حاصل ہونے والی رقم شرعاً سود کے حکم میں ہے، اگر لاعلمی میں لے لیا ہو یا  تبادلے میں آگیا ہو  تو بانڈ پر انعام نکلنے کی صورت میں صرف اصل رقم استعمال کرنا جائزہے،  انعامی رقم کا استعمال شرعاً جائز نہیں اور ثواب کی نیت کے بغیر مستحقِ زکاۃ کو دینا ضروری ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200866
تاریخ20-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں