جو برتن کپڑے وغیرہ پورے سال استعمال نہ ہوں ان میں زکاۃ
سوال
جو چیزیں پرانی سال سے استعمال نہ ہوئی ہوں، مثلاً کپڑے، برتن تو ان میں زکاۃ کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر برتن، کپڑے وغیرہ ضرورت کی چیزیں تجارت کی نیت سے نہ رکھی ہوں تو ان پر زکاۃ نہیں آئے گی، اگرچہ پورے سال یا اس سے زیادہ ان کو استعمال نہ کیا ہو۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 16):
"أموال الزكاة أنواع ثلاثة أحدها: الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة، والثاني: أموال التجارة وهي العروض المعدة للتجارة، والثالث: السوائم". فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

