بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جو برتن کپڑے وغیرہ پورے سال استعمال نہ ہوں ان میں زکاۃ

سوال

جو چیزیں پرانی  سال سے استعمال نہ ہوئی ہوں،  مثلاً  کپڑے، برتن تو ان میں زکاۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر برتن، کپڑے وغیرہ ضرورت کی چیزیں تجارت  کی نیت سے نہ رکھی ہوں تو ان پر  زکاۃ نہیں آئے گی،  اگرچہ پورے سال یا اس سے زیادہ ان کو استعمال نہ کیا ہو۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 16):
"أموال الزكاة أنواع ثلاثة أحدها: الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة، والثاني: أموال التجارة وهي العروض المعدة للتجارة، والثالث: السوائم".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200861
تاریخ20-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں