بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہاتھ ناف کے نیچے باندھنا

سوال

کیا ہاتھ ناف کے نیچھے باندھنا چاہیے یا ناف کے اوپر ، دونوں طرف کی احادیث میں راجح احادیث کون سی ہیں؟

جواب

احناف رحمہم اللہ کے ہاں نماز کے دوران قیام کی حالت میں ہاتھ  ناف کے نیچے باندھنا ہی راجح ہے، مختلف روایات اور آثارِ صحابہ سے یہ ثابت ہے،  مثلاً امام ابوداود رحمہ اللہ نے حدیث روایت کی ہے:

"حدثنا محمد بن محبوب حدثنا حفص بن غياث عن عبد الرحمن بن إسحاق عن زياد بن زيد عن أبي جحيفة أن عليًّا - رضي الله عنه - قال: السنة وضع الكف على الكف في الصلاة تحت السرة". (سنن ابی داؤد :۱/۴۹۵)

اس حدیث میں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ سنت یہ ہے کہ ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے باندھا جائے، اور  ’’علمِ مصطلح الحدیث‘‘ کا طے شدہ اصول ہے کہ جب کوئی صحابی کسی عمل کو سنت کہے تو وہ حدیث مرفوع کےحکم میں ہوتی ہے، اس حدیث میں اگرچہ عبدالرحمن بن اسحاق ضعیف راوی ہیں، لیکن چوں کہ اس کی تائید صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے ہوتی ہے، اس لیے اس سے استدلال درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200853
تاریخ20-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں