بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اوجھڑی کھانا

سوال

اوجھڑی کا کیا حکم ہے؟

جواب

حلال جانور کی اوجھڑی کھانا جائز ہے، البتہ خوب  اچھی طرح سے پاک و صاف کرنا ضروری ہے۔

’’امداد الفتاوی‘‘  میں ہے:

’’ اوجھڑی کی حلت  اس لیے ہے کہ اس میں کوئی وجہ حرمت کی نہیں، فقہاء نے اشیائے حرام کو شمار کردیا ہے، یہ ان کے علاوہ ہے، یہ شمار "درمختار"  کے مسائل شتٰی میں مذکور ہے:

والغدة، والخصیة والمثانة، والمرارة، والدم المسفوح، والذکر. اهـ ‘‘. (4/104)

’’فتاوی رحیمیہ‘‘  میں ہے:

’’فقہاء نے جانور کی سات چیزوں کو حرام قراردیا ہے، ان سات چیزوں میں اوجھڑی شامل نہیں ہے ، لہذا اسے حلال کہا جائے گا،  جو  اِسے حرام قرار دیتے ہیں وہ دلیل پیش کریں‘‘۔ (10/81، ط: دارلاشاعت) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200827
تاریخ19-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں