بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے وضو میں سر کے مسح کا حکم

سوال

کیا عورت کو وضو میں سر کا مسح کرنا چاہیے؟

جواب

وضو میں سر کے مسح  کی  فرضیت مرد وعورت دونوں کے لیے یک ساں  ہے؛ لہذا عورت کے لیے بھی وضو میں سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ یعنی چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے، جب کہ پورے سر کا مسح کرنا مسنون ہے۔ نیز مسح صرف اُن ہی بالوں پر کرنے کا حکم ہے جو سر پر ہوں، وہ بال جو گدی سے نیچے لٹکے ہوئے ہوں خواہ مرد کے ہوں یا عورت کے ان پر مسح کرنے کا حکم نہیں اور صرف ان بالوں پر مسح کرنے سے مسح کی فرضیت بھی ساقط نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200825
تاریخ19-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں