بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام کی کمائی کی ادائیگی کے لیے صدقہ قرض سے کرنا

سوال

Re: جواب 144012201163‎

ابھی اس وقت میرے پاس آمدن کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے، اگر میں اس نیت سے ان کا استعمال کروں کہ میں ان سے پیسے اکٹھا کرکے پھر کسی سے قرض لے کر رقم صدقہ کر دوں گا تو کیا ان پیسوں کا استعمال میرے لیے جائز ہوجائے گا جو میں نے ان کے ذریعہ کمائی ہے؟

اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیں کہ ان سے کمائی ہوئی رقم اگر ہو تو کیا موبائل اور بائیک کی رقم صدقہ کرنے سے یہ مال حلال ہوجائے گا؟

جواب

مذکورہ سوال و جواب کی روشنی میں آپ پہلے  کل حرام رقم متعین کرلیں کہ کتنی ہے اور قرض لے کر صدقہ کردیں؛ تاکہ اس بائیک کا استعمال جائز ہو جائے اور پھر قرض ادا کرتے رہیں۔ اصل رقم صدقہ کردینے کی صورت میں کمائی جائز ہوگی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو اشترى بالدراهم المغصوبة شيئاً، هل يحل له الانتفاع به أو يلزمه التصدق؟

ذكر الكرخي - رحمه الله - وجعل ذلك على أربعة أوجه: إما أن يشير إليها وينقد منها، وإما أن يشير إليها وينقد من غيرها، وإما أن يشير إلى غيرها وينقد منها، وإما أن يطلق إطلاقاً وينقد منها، وإذا ثبت الطيب في الوجوه كلها، إلا في وجه واحد وهو أن يجمع بين الإشارة إليها والنقد منها ... ومن مشايخنا من اختار الفتوى في زماننا بقول الكرخي تيسيراً للأمر على الناس لازدحام الحرام". (کتاب الغصب، فصل في حکم الغصب، ج:۷ ؍۱۵۴ ،۱۵۵، ط:سعید ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200815
تاریخ19-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں