بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ

سوال

میں گورنمنٹ سکول میں استاد ہو ں، مجھ سے جی پی فنڈ نہیں کاٹا جاتا،  اگر میں درخواست دے کر جی پی فنڈ شروع کردوں تو کیا ملنے والا منافع سود ہوگا یا جائز؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اپنے اختیار سے درخواست دے کر جی پی فنڈ میں رقم جمع کروائے گا تو پھر اس پر حکومت کی طرف سے ملنے والے منافع میں سود کی مشابہت ہے؛ لہٰذا اس سے اجتناب کیا جائے۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"كل قرض جرّ نفعًا حرام". (كتاب المداينات: 265، ط: دارالكتب العلمية)

جواہر الفقہ میں ہے:

’’پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اپنے اختیار سے کٹوائی جائے تو اس میں تشبہ بالربوا بھی ہے اور ذریعہ سود بنالینے کا خطرہ بھی، اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے‘‘۔  (پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ اور سود کا مسئلہ: 3/258، ط: دارالعلوم کراچی) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200795
تاریخ18-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں