بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مؤذن کا اذان خانہ سے اقامت کہنا اور وہاں سے جماعت میں شامل ہونا

سوال

ہم ترکی میں رہتے ہیں، ہماری جامع مسجدمیں مؤذن  جماعت کی صف سے الگ پیچھے ایک جگہ سے اقامت کہتے ہیں اور اسی جگہ سے جماعت میں شریک ہوتے ہیں ساتھ میں آگے پیچھے دائیں بائیں کوئی بھی نہیں ہوتا، کیا یہ طریقہ شرعاً جائز ہے؟

جواب

سوال میں مذکورہ طریقے کے مطابق اقامت کہنے سے اقامت ادا ہوجائے گی، اس لیے کہ شریعتِ مطہرہ نے اقامت کہنے والے شخص کے لیے امام کی طرح  کوئی  جگہ مقرر نہیں کی ہے کہ اقامت کہنے والا شخص اگر  اس جگہ پر کھڑا نہ ہوا تو اقامت کہنا معتبر نہ رہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اقامت کہنے والا شخص امام کے پیچھے ہو؛ تاکہ بوقتِ ضروت امام کی نیابت کر سکے، تاہم اگر اقامت کہنے والا شخص شرعی مسجد کی حدود میں ہی امام سے فاصلے پر کسی جگہ کھڑے ہوکر اقامت کہے تو  اس صورت میں بھی اقامت شرعاً درست ہوگی، البتہ مؤذن کا اس طرح اکیلے نماز پڑھنا کہ دائیں بائیں آگے پیچھے کوئی نہ ہو کراہت سے خالی نہیں، بہتر یہ ہے کہ اذان خانہ میں صرف اذان دے، اور جماعت میں شامل ہوکر اقامت کہے ۔

’’ فتاوی شامی‘‘  میں ہے:

"كره كقيامه في صف خلف صف فيه فرجة، قلت : وبالكراهة أيضاً صرح الشافعية". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200784
تاریخ18-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں