بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی صدقہ

سوال

 ہمارے علاقے میں روزانہ دو سے تین جوان میتیں ہو رہی ہیں تو علاقے کے لوگوں نے اس طرح میتوں کے ہونے کو آفت قرار دیتے ہوئے اجتماعی طور پر صدقہ کرنے کا مشورہ کیا ہے۔ لوگ گلی گلی گھوم کر پیسہ جمع کریں گے،  پھر ان پیسوں سے صدقہ کریں گے تو کیا اسلام میں یا شریعت میں اجتماعی صدقہ کی کوئی اہمیت ہے۔راہ نمائی فرمائیں؟

جواب

صدقہ اور نیک اعمال کی ترغیب دی جائے اور گناہوں سے گریز کا مشورہ دیاجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، تاہم نفلی صدقہ انفرادی عمل ہے،  بہتر یہ ہے کہ اس کو انفرادی طور پر کیا جائے، ہاں یہ ممکن ہے کہ اگر یہ صدقہ جمع کرکے کوئی بڑا کام کرنے مثلاً  غریبوں کے لیے ہسپتال وغیرہ بنانے یا اس نوعیت کے لیے جمع کیا جائے تو اس کی اجازت ہے۔ بشرطیکہ اس میں کسی پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو، جو چاہے دے جو چاہے نہ دے، اور دینے والا جتنا چاہے دے۔ اگر زکاۃ ادا نہ کی ہو تو نفلی صدقے سے پہلے زکاۃ کی ادائیگی کی فکر زیادہ اہم ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200771
تاریخ17-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں