بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا رضاعی باپ کی دوسری بیوی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے؟

سوال

کیارضاعی باپ کی دوسری بیوی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رضاعی باپ کے  تمام اصول و فروع رضیع پر حرام ہوتے ہیں اور رضاعی باپ کی دوسری بیوی کی بیٹی (جو رضاعی باپ سے ہو، وہ) بھی اسی رضاعی باپ کے فروع میں داخل ہے؛ اس لیے رضاعی باپ کی دوسری بیوی سے پیدا شدہ  بیٹی سے بھی  نکاح کرنا جائز نہ ہو گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 343):
"يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعاً أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200727
تاریخ16-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں