بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں شلوار کا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا

سوال

 کیا ٹخنوں سے نیچے شلوار ہو تو نماز نہیں ہوتی؟ یا اگر ہوتی ہے تو کیا اعادہ واجب ہے؟

جواب

شلوار کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنا  بقصدِ تکبر حرام ہے، اور بلاقصدِ تکبر مکروہ تحریمی ہے، اگر غیر ارادی طور پر کبھی شلوار کا پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹک جائے تو  معاف ہے، لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا یا شلوار ہی ایسی بنانا کہ پائنچہ ٹخنوں سے نیچے لٹکتا رہے، یہ جائز نہیں ہے، البتہ نماز ہو جاتی ہے اور اعادہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

’’ مرقاة المفا تیح‘‘:

"ولایجوز الإسبال تحت الکعبین إن کان للخیلاء، وقد نص الشافعی علی أن التحریم مخصوص بالخیلاء؛ لدلالة ظواهر الأحادیث علیها، فإن کان للخیلاء فهو ممنوع منع تحریم، وإلا فمنع تنزیه". (۸/۱۹۸، کتاب اللباس) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200720
تاریخ16-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں