بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل تصویر کے مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہونے کی وجہ سے عوام کس فتویٰ پر عمل کرے؟

سوال

ڈیجیٹل تصویر کے مسئلے میں جو علماءِ کرام کا اختلاف ہے تو اس میں عوام کیا کرے؟ اور کس کے فتوے پر عمل کرے؟

جواب

عوام کو  ہمیشہ احتیاط والے پہلو  پر عمل کرنا چاہیے؛ چوں کہ ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں اکثر علمائے کرام کا قول حرام ہونے کا ہی ہے، اس لیے عوام کو ڈیجیٹل تصویر سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، جو علمائے کرام ڈیجیٹل تصویر کو تصویر ماننے کے قائل نہیں ہیں وہ بھی عوام کو احتیاط پر ہی چلنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144105200711
تاریخ16-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں