بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گرم پانی کے استعمال میں کسی کا حق مارنا

سوال

ایک گھر میں ایک پرائیویٹ ادارہ کی طرف سے چند افراد کو رہائش دی گئی ہے، جس میں گرم پانی کے لیے 10 گیلن کا گیزر لگا کر دیا گیا ہے اور افراد بھی دس ہیں، ہر ایک کے حصہ میں ایک گیلن آتا ہے، صبح کے وقت چند افراد دو ، دو گیلن جلدی سے نکال لیتے ہیں تو بعض افراد کے لیے گرم پانی بالکل نہیں بچتا تو دوسرے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ ہمارا حق لیتے ہو جو  آپ کے لیے جائز نہیں، اس تفصیل کے بعد پوچھنا یہ ہے کہ بعض کے لیے زیادہ پانی لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں ادارے کی طرف سے جو گیزر  لگایا گیا ہے چوں کہ سب کے مشترکہ استعمال کے لیے ہے؛ اس لیے سب اس کے پانی کے استعمال میں برابر کے شریک ہیں،  ایسی صورت میں اپنے حق سے زیادہ لے کر دوسرے ساتھی کو نقصان پہنچانا غیر اخلاقی عمل ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے، اگر اپنے حصہ سے زیادہ کی ضرورت پڑجائے تو  باقی ساتھیوں سے پیشگی اجازت لے کر استعمال کرے، بصورتِ دیگر اضافی پانی کا اپنے لیے انفرادی بندوبست کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144105200663
تاریخ15-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں