بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خراب قبر درست کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

سوال

اگر بارش کی وجہ سے قبر خراب ہوجاۓ یا بیٹھ جاے تو اس کو کیسے درست کیا جائے؟  کیا قبر کو کھول سکتے ہیں یا پھر ویسے ہی اوپر مٹی ڈال دیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں قبر کھول کر تختے نکال کر دوبارہ درست نہ کیا جائے، بلکہ قبر کے اوپر مٹی ڈال کر درست کردیا جائے، قبر اکھاڑ کر اندر سے تختہ وغیرہ درست کرنا یا میت کو نکال کر دوسری قبر میں منتقل کرنا جائز نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

’’(قَوْلُهُ: وَلَايُنْبَشُ لِيُوَجَّهَ إلَيْهَا) أَيْ لَوْ دُفِنَ مُسْتَدْبِرًا لَهَا وَأَهَالُوا التُّرَابَ لَايُنْبَشُ؛ لِأَنَّ التَّوَجُّهَ إلَى الْقِبْلَةِ سُنَّةٌ، وَالنَّبْشَ حَرَامٌ، بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ بَعْدَ إقَامَةِ اللَّبِنِ قَبْلَ إهَالَةِ التُّرَابِ؛ فَإِنَّهُ يُزَالُ وَيُوَجَّهُ إلَى الْقِبْلَةِ عَنْ يَمِينِهِ، حِلْيَةٌ عَنْ التُّحْفَةِ‘‘. ( كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن الميت، ٢ / ٢٣٦) 

فتاوى ہندیہ میں ہے:

"وَإِذَا خَرِبَتْ الْقُبُورُ فَلَا بَأْسَ بِتَطْيِينِهَا، كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة، وَهُوَ الْأَصَحُّ، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، كَذَا فِي جَوَاهِرِ الْأَخْلَاطِيِّ". ( ٤ / ٤٧٩) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200646
تاریخ14-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں