بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی باجماعت قضا کرنے میں سرًا قراءت کا حکم

سوال

اگر چند لوگوں کی فجر کی نماز قضا ہوجائے اور وہ فجر کی قضا نماز جماعت سے ادا کریں، لیکن اشراق یا چاشت کے وقت میں ادا کریں تو کیا امام جہراً قراءت کرے گا یا سرًّا؟ اگر امام نے جہراً قراءت کی تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟ اب اس بات کو کئی دن گزر چکے ہیں، کیا نماز کا اعادہ مستحب ہوگا یا نہیں؟

جواب

اگر فجر کی نمازباجماعت قضا کی جائے تو قراءت جہرًا کی جائے گی، لہذا اگر جہرًا قراءت کی گئی ہے تو نماز ادا ہوگئی ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں۔

الفتاوى الهندية - (1 / 72):

"إذا ترك صلاة الليل ناسياً فقضاها في النهار وأمّ فيها وخافت كان عليه السهو، وإن أمّ ليلاً في صلاة النهار يخافت و لايجهر، فإن جهر ساهياً كان عليه السهو، كذا في فتاوى قاضي خان".

الفتاوى الهندية - (1 / 121):

"و متى قضى الفوائت إن قضاها بجماعة فإن كانت صلاة يجهر فيها يجهر فيها الإمام بالقراءة، و إن قضاها وحده يتخير بين الجهر و المخافتة و الجهر أفضل، كما في الوقت، و يخافت فيما يخافت فيه حتماً، و كذا الإمام، كذا في الظهيرية". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200644
تاریخ14-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں