بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکتب کے لیے شادی شدہ ہونے کی شرط لگانا

سوال

مکتب کے ادارے میں تدریس کے لیے ایک قاری صاحب آئے جو مجود اور پڑھانے میں تجربہ کار ہو،تو مہتمم کا ان کو صرف اس وجہ سے مکتب کا استاد نہ رکھنا کہ مکتب کا ضابطہ یہ ہے کہ قاری صاحب شادی شدہ بھی ہوں۔ کیا مہتمم صاحب کا شرعاً یہ ضابطہ درست ہے؟ 

جواب

مکتب میں تقرر  کے لیے مہتمم کو اختیار ہے کہ  ادارے  کی بہتری کے لیے جو شرائط مناسب  ہوں، مقرر کرے؛ لہٰذا چھوٹے بچوں کو پڑھانے یا ان کی تربیت کے لیے قاری صاحب کے شادی شدہ  ہونے کی شرط لگانا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200602
تاریخ13-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں