بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نہ لڑکی کو قبول کیا تھا اور نہ قبول کرتا ہوں سے طلاق کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص نکاح کے بعد  کہہ دے  کہ میں نے نہ لڑکی کو قبول کیا تھا اور نہ قبول کرتا ہوں، کیا ایسا کہنے سے نکاح باطل ہوگا یا طلاق واقع ہوگی ؟

جواب

نکاح کے ایجاب و قبول کے وقت مذکور ہ شخص نے چوں کہ  قبول کیا تھا تو نکاح منعقد ہوگیا تھا ، اب اس کا یہ کہنا کہ’’نہ لڑکی کو قبول کیا تھا نہ کرتا ہوں‘‘  لغو ہے ، نکاح بدستور برقرار ہے ،  اور چوں کہ یہ الفاظ  عرفاً اور شرعاً طلاق کے بھی نہیں؛ اس  لیے ان الفاظ سے طلاق بھی واقع نہیں ہوئی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 230):
"وركنه لفظ مخصوص". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200595
تاریخ13-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں