قرض خواہ نہیں ملے تو کیا کرے؟
سوال
مقدور بھر کوشش کے باوجود اگر قرض خواہ نہ ملے تو قرض کی رقم صدقہ کرنا ضروری ہے؟یا نفلی؟اور اگر قرض خواہ غیر مسلم ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر قرض خواہ کے ملنے کی امید بالکل نہ رہے تو بغیر ثواب کی نیت کے کسی مستحقِ زکاۃ کو وہ رقم صدقہ کردی جائے۔ تاہم اگر قرض خواہ آجائے یا اس کے ورثہ کا پتا معلوم ہوجائے تو ان سے حق معاف کرالیا جائے، بصورتِ دیگر انہیں قرض کے مطالبے کا حق ہوگا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144105200591
تاریخ13-01-2020

