بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حنفی شخص کا حالت سفر میں شافعی وقت میں عصر کی نماز پڑھنے کا حکم

سوال

 کیا حنفی شخص کے لیے حالتِ سفر میں عصر کی نماز شافعی وقت میں پڑھنے کی گنجائش ہے جب کہ سفر سہولت والا ہے، کوئی سواری چھوٹنے کا اندیشہ بھی نہیں ہے، بلکہ سواری تابع ہے؟

جواب

حنفی شخص کے لیے حالتِ سفر میں بلا عذر عصر کی نماز  مثلِ اول اور مثلِ ثانی کے درمیان پڑھنا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 359):
"والأحسن ما في السراج عن شيخ الإسلام: أن الاحتياط أن لايؤخر الظهر إلى المثل، وأن لايصلي العصر حتى يبلغ المثلين؛ ليكون مؤديًا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، وانظر هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا؟ والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام، تأمل.

ثم رأيت في آخر شرح المنية ناقلاً عن بعض الفتاوى: أنه لو كان إمام محلته يصلي العشاء قبل غياب الشفق الأبيض فالأفضل أن يصليها وحده بعد البياض". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200566
تاریخ13-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں