بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینکاری کے اختلاف میں عوام کیا کریں؟

سوال

آج کل بینک کے مسئلے میں جو علماء کا اختلاف ہے تو اس میں عام لوگ کیا کریں؟ کس کے فتوے پر عمل کریں؟

جواب

مروجہ اسلامی بینکاری کے حوالہ سے علماء کا ختلاف راجح مرجوح کا اختلاف نہیں، بلکہ یہ اختلاف، حلال اور حرام کا اختلاف ہے، جمہور علماء حرام قرار دیتے ہیں اور کچھ علماء حلال قرار دیتے ہیں، ایسے مسئلہ میں بہرحال حرام کو مقدم رکھا جاتا ہے۔  بالفرض حلال کہنے والوں کے موقف کو تسلیم کیا جائے تو اسلامی بینک کے ذریعہ سرمایہ کاری زیادہ سے زیادہ مباح عمل ہے، دوسری طرف حرام میں وقوع کا امکان ہے، مباح کو اختیار کرنے کی بجائے حرام سے بچنا فرض ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200551
تاریخ12-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں