بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چاند کی ابتدائی تاریخوں میں بالوں کو کاٹنے کی شرعی حیثیت

سوال

بعض عورتیں کہتی ہیں کہ اگر سر کے بال چاند کی شروع کی تاریخوں  میں کاٹے جائیں تو بال بڑھتے ہیں؛ اس لیے چاند کی آخری تاریخوں میں بال نہیں کاٹنے چاہییں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

مذکورہ بات کا تعلق تجربے سے تو ہوسکتا ہے، تاہم ایسی کسی بات  کا شریعت میں ثبوت نہیں ملتا۔ تاہم اگر بال کاٹنے سے مراد خواتین کا اپنے  سر کے بال کاٹنا ہے، تو  اس کا حکم یہ ہے کہ عمرہ یا حج کے احرام سے حلال ہونے کے لیے ایک پورے کے بقدر  یا کسی ضرورت کی وجہ سے (مثلاً: آپریشن وغیرہ کی غرض سے، یا بال بہت زیادہ لمبے ہوجائیں، مثلاً: قدموں تک پہنچ جائیں تو)بقدرِ ضرورت  بال کاٹنے کی اجازت ہے، عام حالت میں خواتین کے لیے سر کے بال کاٹنا شرعاً درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200543
تاریخ12-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں