بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے کمائی ہوئی رقم سے گھر خریدنا

سوال

انیس سو ننانوے میں بینک میں ملازمت  کرتا تھا، وہاں سے قرضہ لے کر میں نے گھر خریدا اور اپنی بیگم کے نام کردیا ، بیگم کو مالک بنانا میرا مقصود نہیں تھا،  پھر میری تنخواہ  سے قسطیں کٹتی رہیں اس کے بعد جب میں ریٹائر ہوا تو پینشن سے بقیہ رقم جو رہ گئی تھی وہ بینک نے کاٹ دی اور اس کے بعد 2007 میں اوپر کا پورا فلور میں نے بنایا ، یہ پوچھنا ہے کہ اب اس کا شرعی مالک کون ہے؟

جواب

آپ نے بینک کی کمائی سے جو گھر بنایا ہے وہ کمائی ہی آپ کے  لیے حلال نہیں تھی اور اس سے خریدے ہوا مکان بھی آپ کے  لیے حلال نہیں، ہاں! اگر آپ کے پاس کوئی حلال رقم ہو اور اس حلال رقم میں سے اس مکان کی قیمت کے بقدر مستحقینِ زکاۃ کو دے دیں تو یہ  مکان آپ کے  لیے حلال ہو جائے گا۔

اور چوں کہ آپ نے یہ مکان صرف کاغذات میں بیوی کے نام کیا تھا، حقیقۃً بیوی کو  مالک نہیں بنایا تھا،  اس لیے اگر یہ رقم حلال ہوتی اور آپ اس رقم کے مالک ہوتے تو بھی بیوی اس مکان کی مالک نہ ہو تی، اس لیے مذکورہ صورت میں بدرجہ اولیٰ بیوی مالک نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200514
تاریخ11-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں